پی ایم مدھیہ پردیش سے کشمیر کے حالات پر بولے لیکن ایوان میں بیان نہیں دیا:غلام نبی آزاد
نئی دہلی،10اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )کشمیر کے حالات پر راجیہ سبھا میں بحث کے دوران کانگریس کے سینئرلیڈراورحزب اختلاف کے لیڈرغلام نبی آزادنے کہاکہ اس سے پہلے بھی ایوان میں کشمیر کے حالات کو لے کر بحث اوردلتوں کے ساتھ اضافہ ہوئے ظلم وستم کے واقعات کو لے کر بھی بحث ہوئی لیکن وزیر اعظم نے کبھی بھی ایوان میں اس پربیان نہیں دیا بلکہ وہ مدھیہ پردیش سے کشمیر کے حالات پربولے۔انہوں نے اس مسئلے پربحث کرانے کیلئے اپوزیشن کی طرف سے حکومت اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کاشکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ مجھے یاد ہے کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی مسئلے پر ایک ماہ کے سیشن میں چوتھی بار بحث ہورہی ہے۔اس سے پہلے اس ایوان میں بھی کشمیر کے حالات کو لے کر بحث ہوئی،ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ پی ایم جوکہ خودسیشن کے دوران صبح 10یا ساڑھے دس بجے آکر پارلیمنٹ میں اپنے کمرے میں بیٹھ گئے لیکن وہ دونوں ایوان سے اتنے قریب ہو کر بھی ان سے سب سے زیادہ دورہیں۔ان کے کمرے سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آنے میں چند منٹ لگتے ہیں لیکن ان کے نہ آنے کی وجہ سے یہ فاصلہ کئی ہزار کلومیٹر بن جاتا ہے۔آزاد نے مزید کہا کہ ہم نے بار بار کہا کہ اس بحث کے دوران وزیر اعظم ایوان میں آئیں لیکن انہوں نے مدھیہ پردیش سے یہ مسئلہ اٹھایا، نہ کہ پارلیمنٹ میں آکرتاہم اس دوران آزاد نے کہا کہ میں کہنا نہیں چاہتا لیکن جب سے آپ کشمیر میں آئے ہیں، وہاں آگ لگ گئی۔اس پربی جے پی کے ارکان نے ہنگامہ شروع کردیا۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے سمجھانے کے بعد ہی ارکان پرسکون ہوئے اور بحث آگے بڑھی۔اس معاملے پر آگے خطاب کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ میں اٹل بہاری واجپئی جی کی بہت قدر کرتا ہوں۔کشمیر کی آزادی اور جمہوریت کی بات انہیں کے منہ سے اچھی لگتی تھی اوروں کے نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کو صرف وہاں کی خوبصورتی کے لئے محبت نہ کرو،بلکہ وہاں کے لوگوں سے بھی محبت کیجئے۔سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہماری منشا کشمیر میں گزشتہ 32-33دن سے نافذ کرفیو کو سنجیدگی سے لینے اور تشدد میں مارے گئے اور زخمی ہوئے لوگوں کے علاوہ سیکورٹی فورس کے جوانوں کے تئیں تعزیت ظاہرکرنے کی ہے۔آزاد نے ایوان میں کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو کشمیر کے لوگوں کے درد میں شامل ہونا چاہئے اور پورے ایوان کو اپیل کرنی چاہئے کہ وہ مل کر کشمیر میں امن بحال کریں۔وہیں ٹی ایم سی لیڈر ڈیریک او برائن نے کہا کہ ملک اور لوگوں کے درمیان امتیاز مت کیجئے،ہمیں وزارت داخلہ کے اعداد و شمار سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔آج کشمیر میں انٹرنیٹ تک رسائی 25فیصد سے زیادہ ہے۔ماہرین کے پینل کو دو ماہ میں نہیں، بلکہ دو دن میں رپورٹ پیش کرنی چاہئے۔جے ڈی یو کے سینئر لیڈر شرد یادو نے ایوان میں کہا کہ کشمیر کا سوال بھی ہمیں حل کرنا پڑے گا،ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بڑے پیمانے پر کشمیر کے نوجوانوں کو ملک بھر میں تعلیم کے مواقع دئے جائیں گے لیکن آج کتنے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے لئے رہ گئے اور کتنے واپس چلے گئے؟۔ یہ ضرور بتایا جانا چاہئے،ہم کشمیر کے لوگوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرکے ہی ان کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔